ایک شخص کی بیوی نے خاوند سے طلاق کا مطالبہ کیا۔ خاوند طلاق نہیں دے رہا تھا۔ فریقین نے خلع کے متعلق ایک رشتہ دار کو فیصلہ کرنے کے لئے مجاز بنایا تھا جس نے دونوں فریقوں کے موقف کو سن کر فیصلہ دیا اور فیصلہ یہ تھاکہ شوہر حق مہر میں دیا گیا زیور واپس لے گا اور بیوی کا سامان جو اس کو جہیز کی شکل میں ملا تھا ان کو واپس کر دیا جائے گا۔ اور شوہر آئندہ کے لئے کسی قسم کا خرچہ نہیں دے گاان شرائط پر خلع ہو گیا۔ چنانچہ فیصلہ کرنے والے نے اس بات پر فیصلہ کر دیا۔اب بیوی کے خاندان کے لوگ خلع کے بعد خرچہ کا مطالبہ کرتے ہیں آیا ان کو مطالبہ کا حق حاصل ہے یا نہیں؟


سوال میں ذکر کردہ صورت کے مطابق اگر شوہر کی طرف سے لگائی گئی یہ شرط کہ ’’میں آئندہ کسی قسم کا خرچہ نہیں دوں گا‘‘کو بیوی یا اس کی طرف سے مجاز شخص نے تسلیم کر لیا ہو اور یہ شرط بھی خلع میں داخل ہو تو پھر زوجہ کی جانب سے عدت کے خرچہ کا مطالبہ کرنا جائز نہیں۔

قال فی الدر:

(الا نفقۃ العدۃ) وسکناھا فلا یسقطان (الا اذا نص علیھا) فتسقط النفقۃ لا السکنیٰ۔ (ج ۲ ص ۶۱۴)