حروف تہجی میں ضاد کو کچھ لوگ دواد یا ضواد پڑھتے ہیں اور جو دواد یا ضواد پڑھتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ اس کے مقابل پڑھنے سے نماز نہیں ہوتی۔ امام کعبہ بھی دواد ہی پڑھتے ہیں حالانکہ ان کے پیچھے لاکھوں لوگ نماز پڑھ رہے ہوتے ہیں۔


حرفِ ضاد کا تلفظ مشابہ بالظاء ہے مشابہ بالدال نہیں ہے چنانچہ متعدد کتب تجوید میں اس بات کی تصریح موجود ہے جس کی تفصیل احسن الفتاویٰ (۳/۹۰) میں دیکھی جا سکتی ہے، امام کعبہ کے پیچھے نماز پڑھنا بلاشبہ جائز ہے او ربعض آئمہ حرم تو بہت ہی واضح طور پر ضاد کو مشابہ بالظاء ادا کرتے ہیں اور بعض سے جو کسی دوسرے لفظ کی مشابہت سرسری طور پر معلوم ہوتی ہے تو اصل میں وہ ضاد کی تفخیم کی صفت ادا کرنے میں بہت زیادہ توجہ فرماتے ہیں جس کی وجہ سے یہ لفظ یوں مسموع ہوتا ہے کہ مشابہ بالظاء نہیں مگر درحقیقت وہ ظاء کے مشابہ ہی ہے۔