میں نے کئی ماہ تک نماز باجماعت کی امامت کی ہے اور ’’سمع اللّٰہ لمن حمدہ‘‘ کے بعد ’’ربنا لک الحمد‘‘ سری طور پر کہہ لیتا تھا مگر اب بہشتی زیور میں پڑھا ہے امام کو صرف سمع اللہ لمن حمدہ کہنا چاہیے۔ تو میری سابقہ نمازوں کا کیا ہو گا؟


امام کے لیے ’’سمع اللہ حمدہ‘‘ اور ’’ربنا لک الحمد‘‘ دونوں کہنا مسنون ہے یا صرف ’’سمع اللہ لمن حمدہ‘‘ کہنا مسنون ہے۔ اس میں دونوں قول ہیں تاہم افضل یہ ہے کہ ’’ربنا لک الحمد‘‘ بھی کہے لہٰذا سوال میں ذکر کردہ صورت کے مطابق آپ کی سابقہ نمازیں درست ہیں۔

لما فی ’’بدائع الصنائع‘‘ : (۱/۴۸۹)

فان کان اماما یقول سمع اللہ لمن حمدہ ولا یقول ربنا لک الحمد فی قول ابی حنیفۃ وقال ابو یوسف و محمد والشافعی یجمع بین التسمیع والتحمید۔