کیا فرماتے ہیں علماء کرام و مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک آدمی مرا ہے اور ترکہ میں 1,0000000/- روپے چھوڑتا ہے اور اس کے وارث والدین، دو بیٹے اور پانچ بیٹیاں ہیں۔


مرحوم کے انتقال کے وقت جو کچھ بھی اس کی ملکیت میں تھا مثلاً کپڑے، دوکان، مکان، سونا، چاندی، نقدی، زیورات، استعمالی اشیاء اور دیگر ساز و سامان وہ سب مرحوم کا ترکہ ہے، اس سے سب سے پہلے مرحوم کی تجہیز و تکفین کے مصارف (سنت کے مطابق) نکالے جائیں، اس کے بعد اگر مرحوم کے ذمہ کسی کا قرض ہو تو اس کو ادا کیا جائے، اگر مرحوم نے زندگی میں کوئی وصیت کی ہو تو ادائیگی قرض کے بعد باقی ماندہ کی ایک تہائی تک اس کی وصیت کو نافذ کیا جائے اس کے بعد باقی ماندہ کل مال کو چودہ مساوی حصوں میں تقسیم کیا جائے جس میں سے باپ کو نو، ماں کو بھی نو اور ہر بیٹی کو چار چار اور ہر بیٹے کو آٹھ حصے دئیے جائیں۔"