ایک مسئلے کی بابت دریافت کرنا ہے وہ یہ کہ ایک شخص نے اپنی بیوی کی بھانجی کو لے کر پالا ہے اب وہ شخص اس بچی کی ولدیت میں اپنا نام لکھوانا چاہتا ہے آیا شرعاً اس کا یہ فعل جائز ہے؟ قرآن و سنت کی روشنی میں اس کا جواب عنایت فرمائیں؟


شرعاً متبّٰنی بنانا جائز ہے لیکن ولدیت میں اصل والد کانام لکھنا ضروری ہے۔ اس کے والد کے نام کے طور پر غیر والد کا نام لکھنا حرام اور ناجائز ہے البتہ سرپرست کے طور پر اس کا نام لکھا جا سکتا ہے۔

(ادعوھم لابائھم ھوا قسط عنداللہ فان لم تعلموا ابائھم فاخوانکم فی الدین وموالیکم) فیہ اباحۃ اطلاق اسم الاخوۃ وحظہ اطلاق اسم الا بوۃ من غیر جھۃ النسب ...... وروی عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم انہ قال من دعی الی غیر ابیہ وھو یعلم انہ غیر ابیہ فالجنۃ علیہ حرام۔ (احکام القرآن ۳/۴۳۶)"