ایک صاحب نے یکے بعد دیگرے دو بہنوں سے شادی کی دونوں کو بیوی کے طور پر رکھا ہوا ہے دوسری بیوی کی اولاد بھی ہے کیا دوسری بیوی کا نکاح درست ہے اور بچے وراثت میں حصہ دار ہونگے ؟


ایک وقت میں دو بہنوں کو نکاح میں جمع کرنا حرام ہے لہٰذا مذکورہ شخص نے دوسرے نمبر پر جس سے نکاح کیا اس کا نکاح فاسد ہے اس شخص پر لازم ہے کہ وہ اس عورت سے علیحدگی اختیار کرے البتہ شوہر پر اس عورت کا مہر لازم ہوگا عورت کو عدت گزارنا ہوگی اور نسب بھی شوہر سے ثابت ہوگا لہٰذا دوسری عورت سے پیدا ہونے والی اولاد بھی اپنے باپ کی وراثت میں حصہ دار ہوگی۔

وان تزوجھما فی عقدتین فنکاح الاخیرۃ فاسدۃفان فارقھا بعد الدخول فلھا المھر ویثبت النسب و علیھا العدۃ الخ (عالمگیریہ ص۳۰۶ : ج ۱)