ایک باپ کے تین بیٹے اور دو بیٹیاں ہیں والد صاحب کے گھر کے اوپری حصہ پر بڑے بیٹے نے والد صاحب کی زندگی میں گھر بنایا اور علیحدہ رہنے لگے اور والد صاحب نے مکمل اختیارات بھائی کو دے دیئے تھے۔ والدین کے انتقال کے بعد جب وراثت کی ’’شرعی تقسیم‘‘ کا مرحلہ آیا ہے تو بڑا بیٹا اور بہو جنہوں نے باپ کے گھر کے اوپر اپنا گھر بنایا ہے کہنے لگے کہ شرعی تقسیم صرف نیچے والے حصہ پر ہو گی اور چونکہ اوپری حصہ ہم نے خود اپنی کمائی اور والدین کی رضا مندی سے بنایا ہے وہ شرعی تقسیم میں شامل نہیں ہو سکتا۔ برائے مہربانی قرآن و سنت کی روشنی میں صحیح صورتحال واضح فرمائیں۔


اگر والد صاحب نے اپنی زندگی میں بیٹے کو تمام قسم کے تصرفات کا مالک بنا دیا تھا کہ اوپر جس طرح چاہے وہ تصرف کرے مکان بنا کر اس کو فروخت کرے یا اس میں رہائش رکھے تو اس صورت میں بیٹا اوپر کے مکان کا مالک ہے اور یہ ترکہ میں شامل نہیں ہو گا لیکن اگر والد نے اپنی زندگی میں صرف اوپر مکان بنانے کی اجازت دی تھی تمام قسم کے تصرفات کا مالک نہیں بنایا تھا تو اس صورت میں بیٹا صرف اس مکان کے ملبہ کی قیمت کا مالک ہو گا اور مکان کے ملبہ کی قیمت نکال کر بقیہ پورے مکان میں وراثت جاری ہو گی۔

فی ’’الدر مع الشامیۃ‘‘ :

ومن بنی او غرس فی ارض غیرہ بغیر اذنہ امر بالقلع اوالرد لو قیمۃ الساحۃ اکثر کما مرّ و للمالک ان یضمن لہ قیمتہ بناء او شجر امر بقلعہ ای مستحق القلع متقوم بدونھا ومع احدھما مستحق فیضمن الفضل۔

وفی الشامیۃ: ۔ قولہ بغیر اذنہ فلو باذنہ فالبناء لرب الدار وقولہ (مستحق القلع (وھی اقل من قیمتہ مقلوعا مقدار اجرۃ القلع ۔ (باب الغضب۔ ۶:۱۹۴) (سعید)

وفیہ ایضاً :

کل من بنی فی دار غیرہ بامرہ ولو لنفسہ بلا امرہ فھو لہ ولہ رفعہ الا ان یضر بالبنائ:

مسائل شتی: ۶:۷۴۷ (سعید)

وفی الھدایۃ:

واذا بنی المشتری او غرس ثم قضی للشفیع بالشفعۃ فھو بالخیار وان اخذہ بالقیمۃ یعتبر قیمتہ مقلوعاً ای مستحق القلع (الشفعۃ : ۴ : ۲۵۵)