بیوی اگر خاوند کا جائز حق ادا نہ کرے تو کیا اس کو طلاق دینا جائز ہے؟ او ر طلاق دینے کا بہتر طریقہ کیا ہے؟


حدیث پاک میں طلاق کو ’’ابغض المباحات‘‘ یعنی مباح چیزوں میں سب سے زیادہ ناپسندیدہ چیز فرمایا گیا ہے اسی لیے حتی الامکان بیوی کو طلاق نہ دی جائے قرآن کریم کا حکم یہ ہے کہ عورت اگر مرد کے جائز حقوق ادا نہ کرے سب سے پہلے نرمی سے سمجھاؤ اگر اس سے کچھ اثر نہ ہو تو بیوی سے بستر الگ کرو اور اگر اس سے بھی عورت پر کچھ اثر نہ ہو تو ہلکی ہلکی مار کی بھی شریعت میں اجازت ہے اگر یہ تینوں طریقے کارگر ثابت نہ ہوں تو خاندان کے افراد کو درمیان میں ڈال کر تنازع کو ختم کیا جائے طلاق دینے سے پہلے ان تمام طریقوں کو استعمال کرنا ضروری ہے پھر بھی اگر مردو عورت کا تنازع ختم نہ ہو اور طلاق کے بغیر کوئی چارہ کار نہ ہو تو بہر حال مرد طلاق دینے کا اختیار رکھتا ہیں لہٰذا مذکورہ بالا تمام طریقے استعمال کرنے کے باوجود بیوی آپ کا جائز حق دینے کو تیار نہیں ہے تو آپ طلاق دے سکتے ہیں۔

طلاق دینے کا بہتر طریقہ یہ ہے کہ ایسے طہر میں جس میں صحبت نہ کی ہو بیوی کو ایک طلاق رجعی دی جائے اس صورت میں حکم یہ ہو گا کہ عدت گزرنے کے بعد عورت دوسری جگہ اپنا نکاح کر سکتی ہے اور طلاق دینے کے بعد اگر آپ کا تنازع ختم ہو جائے اور بیوی آپ کے ساتھ رہنے کے لیے تیار ہو تو عدت کے اندر بغیر تجدید نکاح کے رجوع کیا جا سکتا ہے اور عدت گزر جانے کے بعد تجدید نکاح کے ساتھ میاں بیوی کی حیثیت سے رہ سکتے ہیں۔

لما فی ’’الحدیث‘‘

عن ابن عمر عن النبی ا قال ابغض الحلال الی اللہ عزوجل الطلاق( ابو داود: رقم:۲۱۷۸)

وفی ’’اعلاء السنن‘‘ :

باب ان الطلاق ابغض الحلال عند اللہ اذا کان بغیر حاجۃ (۱۱/ ۱۳۶)

وفی ’’بذل المجھود‘‘ :

قال البخاری : وطلاق السنۃ ان یطلقھا طاہر من غیر جماع الخ(۳/۲۶۶)