میں نے گزشتہ تین چار سال کے روزے بغیر سال کی تعیین کے مکمل کرلئے مگر بہشتی زیور میں لکھا ہے کہ کئی سال کے روزے رکھتے وقت سال کی تعیین ضروری ہے کیا میرے قضا روزے ادا ہوگئے؟


آپ کے اس سوال کے متعلق امداد الفتاویٰ کا فتویٰ (ص ۱۰۵، ج ۲) سے بعینہ نقل کیا جاتا ہے ’’باقی تعین کہ فلاں سال کا روزہ رکھتا ہوں سو اس مین دو قول ہیں بہشتی زیور میں احتیاط کا قول لے لیا ہے باقی ضرورت میں دوسرے قول پر عمل کرنے کی بھی گنجائش ہے فی الدرالمختار ولونوی قضاء رمضان الخ اس لیے ایسے قضاء روزے جس میں تعین نہیں کی گئی ان کو صحیح سمجھئے۔