اہل میت کا تیسرے دن، نویں دن اور چالیسویں دن میت کے گھر میں کھانا (حلوہ وغیرہ) تیار کر کے کھلانے کا شرعی حکم کیاہے؟


اپنے ذاتی اور حلال مال سے صدقہ و خیرات کر کے میت کی روح کو ثواب پہنچانا جائز اور درست ہے لیکن اس میں کسی خاص دن یا وقت کی قید لگانا اور اس کو ضروری سمجھتے ہوئے اس کا التزام کرنا ناجائز اور بدعت ہے۔ سوال میں ذکر کردہ ایام میں مخصوص طریقہ سے کھانا کھلانے کا التزام کیا جاتا ہے نیز نہ کرنے والے کے متعلق طرح طرح کی باتیں کی جاتی ہیں جس کی وجہ سے کھانا کھلانے والا اپنی برادری کے دباؤ میں آکر بغیر خوشدلی کے صدقہ وخیرات کرتا ہے اور حدیث پاک میں ہے کہ کسی آدمی کا مال اس کی طیب خاطر اور خوشدلی کے بغیر حلال نہیں، اس کے علاوہ اس رسم میں متعدد مفاسد پائے جاتے ہیں جس کی وجہ سے حضرات فقہاء کرام نے اس رسم کی قباحت بیان کرتے ہوئے اس کی تردید کی ہے لہٰذا اس رسم کو ترک کرنا اور دوسروں کو اس سے بچنے کی تاکید کرنا بہت ضروری ہے۔

و یکرہ اتخاذ الضیافۃ من الطعام من اہل المیت لانہ شرع فی السرور لا فی الشرور وھی بدعۃ مستقبحۃ ، وروی الامام احمد و ابن ماجۃ باسناد صحیح عن جریر بن عبداللہ قال کنا نعد الاجتماع الی اہل المیت و صنعھم الطعام من النیاحۃ ا ھ وفی البزازیۃ: ویکرہ اتخاذ الطعام فی الیوم الاول والثالث وبعد الاسبوع ونقل الطعام الی القبر فی المواسم (شامی/ ۲: ۲۴۰، طحطاوی علی مراقی الفلاح/ ص: ۳۹۹ ، عالمگیریۃ / ۱: ۱۶۷)