میں چکوال (پنجاب) کا مستقل رہائشی ہوں اپریل 2008ء میں اسلام آباد بسلسلہ ملازمت آنا ہوا۔ مئی میں فیملی بھی لے آیا اور مکمل نماز ادا کرنے لگا۔لیکن اب فیملی دوبارہ واپس کردی ہے خود اسلام آباد عارضی رہائش ہے ہفتہ میں ایک دفعہ چکوال ضرور واپس جاتا ہوں۔ اب میری نماز قصر ہوگی یا مکمل؟


اصل سوال کے جواب سے پہلے تمہید کے طور پر چند باتوں کا معلوم ہونا مناسب ہے۔

(۱) وہ جگہ جہاں انسان پیدا ہوا ہو اور اس کو چھوڑا نہ ہو یا وہ جگہ جہاں مستقل رہائش اختیار کر لی جائے یا وہ جگہ جہاں بیوی بچوں کو مستقل رہائش دے رکھی ہو اس کو ’’وطن اصلی‘‘ کہا جاتا ہے۔ایسے تمام مقامات پرمکمل نماز ادا کرنا ضروری ہے۔

(۲)کسی جگہ عارضی طور پر پندرہ یا اس سے زائد دن کی نیت سے ٹھہرا جائے تو اس کو ’’وطن اقامت‘‘ کہتے ہیں۔ اس جگہ پر بھی مکمل نماز ادا کرنا ضروری ہوتا ہے۔ اگر اس مقام کو چھوڑنے کی نیت سے سفر کیا جائے تو یہ ’’وطن اقامت‘‘ ختم ہو جاتا ہے۔ البتہ وہ شخص جو ملازمت وغیرہ کے سلسلہ میں کسی جگہ رہائش پذیر ہو اور وہاں ضروریات کا ذاتی سامان بھی موجود ہو اس مقام سے ایک دودن کے لئے سفر کرنے سے یہ وطن اقامت ختم نہیں ہوتا وہاں آنے پر مکمل نماز ادا کرنا ضروری ہوگا۔

صورت مسئولہ میں چکوال میں مکمل نماز ادا کرنا ضروری ہے اور اسلام آباد میں جہاں بسلسلہ ملازمت رہائش پذیر ہیں وہاں بھی مکمل نماز ادا کرنا ضروری ہے۔

لما فی ’’بدائع الصنائع‘‘ : (۱؍۱۰۴)

وینقض بالسفر ایضا لان توطنہ فی ھذا المقام لیس للقرار ولکن لحاجتہ فاذا سافر منہ یستدل بہ علی انقضاء الحاجۃ فصار معرضا عن التوطن بہ فصار ناقضا لہ دلالۃ

وفیہ ایضا:

الاوطان ثلاثۃ، وطن اصلی وھو وطن الانسان فی بلدتہ او بلدۃ اخری اتخذھا دارا وتوطن بھا مع اھلہ وولدہ ولیس من قصدہ الارتحال عنھا بل التعیش بھا الخ

وکذا فی ’’البحر الرائق‘‘ : (۲؍۱۴۸)