کیا قصر نماز میں سنت مؤکدہ پڑھتے ہیں اور اگر قصر نماز کی بجائے پوری نماز پڑھ لی جائے تو کوئی حرج تو نہیں۔


واضح رہے کہ شرعی مسافر کے لیے دوران سفر قصر نماز پڑھنا واجب ہے۔ پوری نماز پڑھنا گناہ ہے قصر صرف فرائض میں ہوتی ہے سنتوں میں نہیں۔

دورانِ سفر سنتوں کا حکم یہ ہے کہ اگر جلدی ہو اور وقت کم ہو فجر کے علاوہ باقی سنتوں کو چھوڑنا جائز ہے اور اگر جلدی نہ ہو تو سنتوں کو بھی ادا کر لے۔

لما فی ’’الہندیہ‘‘:

القصر عندنا واجب۔ وفیہ أیضا ولاقصر فی السنن (۱/۱۳۹) رشیدیہ۔

وفی ’’الشامیہ‘‘:

وقال فی العلائیہ: ویاتی بالمسافر ان کان فی حال امن وقرار والا بان کان فی خوف وفرار لایاتی بھا ھوالمختار لانہ ترک العذر تجنیس قیل الاسنۃ الفجر۔ (۱/۷۳۲)