بیت اللہ اور مسجد نبوی میں عصر کی نماز جلد ی ہو جاتی ہے ۔ کیا حنفیوں کیلئے جلدی نماز پڑھنا درست ہے؟


مسجد حرام اور مسجد نبوی میں وہاں کے آئمہ کرام کے پیچھے عصر کی نماز جلدی ادا کر لینا درست ہے۔

فی الدر المختار:

ووقت الظہر من زوالہ الی بلوغ الظل مثلیہ) وعنہ مثلہ وھو قولھما وزفر والائمۃ الثلاثۃ، قال الامام الطحاوی ؒ وبہ نأخذ وفی غرر الاذکار وھو المأخوذبہ وفی البرھان وھو الا ظھر لبیان جبریل وھو نص فی الباب وفی الفیض وعلیہ عمل الناس الیوم وبہ یفتی (۱ :۳۵۹) وکذا فی اشعۃ اللمعات (۱:۳۰۵)

وفی رد المحتار: ۔

وقال الشیخ عبداللہ العفیف فی فتاواہ العفیفیۃ عن الشیخ عبدالرحمن المرشدی وقد کان شیخنا شیخ الاسلام مفتی بلداللہ الحرام الشیخ علی بن جار اللہ بن ظھیرۃ الحنفی لا یزال یصلی مع الشافیعۃ عند تقدم جماعتھم الخ(۱/۵۶۴)