حنفی مذہب میں حائضہ کی عادت کس طرح سے ثابت ہوتی ہے۔ کسی عورت نے بتایاکہ اگر دو مرتبہ کسی عورت کو لگاتار اسی تاریخوں میں ماہواری آئے تو یہ اس کی عادت شمارہوتی ہے۔


مذکورہ صورت میں جن تاریخوں میں عورت کو دو ماہ تک خون آیا وہی اس کی عادت ہو گئی البتہ یہ بات واضح رہے کہ عادت میں تبدیلی کے لیے دو دفعہ خون آنا ضروری نہیں راحج قول کے مطابق معتادہ کو ایام حیض میں ایک دفعہ خون آنے سے بھی عادت ثابت ہو جائے گی۔

وفی ذخرالمتاھلین والعادۃ تثبت بمرۃ واحدۃٍ فی الحیض والنفاس دماً اوطھراً ان کانا صحیحین وفی المنھل تحت ھذہ العبارہ وانما الخلاف فی المعتادۃ اذا رأت مایخالف عادتھا مرۃ واحدۃ ....... عندھما یصیر ذالک عادۃ ...... وعند محمد الی العادۃ القدیمہ۔ (ذخر المتاھلین ص ۲۵، ج ۱)