جب ہمارا نکاح ہوا تھا تو میرے والد نے دلہن کا زیور جس کی مالیت 71500/- روپے تھی حق مہر کی جگہ لکھوا دیا 4سال پہلے مجھ کو ایک کاروبار میں شدید نقصان ہوا جس کی وجہ سے میں بینک کا مقروض ہو گیا تو اس کو ادا کرنے کے لیے ہم میاں بیوی نے باہمی رضا مندی سے زیور بیچ دیا زیور بیچنے میری بیوی بھی ساتھ گئی تھی اس وقت میں نے اپنی بیوی سے محبت اور اچھے حالات کی امید میں کہا تھا کہ میں انشاء اللہ اور بنوا دوں گا مگر ایسا نہ ہو سکا لہٰذا جو زیور حق مہر کی صورت میں دیا تھا وہ بک گیا 3 سال تک میں نوکری کرتا رہا اب 6ماہ سے بے روزگار ہوں تو کیا میں اب بھی اس کو حق مہر والا زیور یا 71500/- روپے ادا کروں ؟


خاوند کی طرف سے حق مہر کے طور پر جو رقم یا سونا وغیرہ عورت کو دیا جاتا ہے وہ ا س کا حق ہوتا ہے شادی کے بعد اگر خاوند حق مہر کی رقم کو استعمال میں لائے تو اس کی دو صورتیں ہیں۔

(۱) بطور قرض کے استعمال کرے۔

(۲) بیوی بخوشی خاوند کو مہر ہبہ کر دے پہلی صورت میں استعمال کی گئی حق مہر کی رقم بیوی کو واپس کرنا ضروری ہے اور دوسری صورت میں لوٹانا ضروری نہیں لہٰذا سوال میں ذکر کردہ صورت کے مطابق میں اگر خاوند نے حق مہر کی رقم کو قرض کی ادائیگی میں بطورقرض کے استعمال کیا ہے تو یہ رقم واپس کرنا ضروری ہے البتہ اگر بیوی خوشی سے معاف کردے تو اس کی طرف سے تبرع ہو گا ۔