ایکسیڈنٹ کی وجہ سے میرے چہرے اور جسم کے اکثر حصہ پر زخم ہیں ڈاکٹر نے پانی استعمال کرنے سے سختی سے منع کیا ہے تو میں نماز کیسے پڑھوں اور کیا میں تیمم کر سکتا ہوں۔


اگر اعضاء وضو (چہرہ، دو ہاتھ، دو پائوں) میں سے اکثر پر زخم ہوں تو تیمم کرے ورنہ صحیح اعضاء کو دھوئے اور زخمی عضو پر مسح کرے، غسل کا بھی یہی حکم ہے مگر اس میں اعضاء کے عدد (تعداد) کی بجائے پورے بدن کی پیمائش کو دیکھا جائے گا، اگر آدھے سے زائد بدن پر زخم ہوں تو تیمم کرے اور اگر آدھے بدن پر یا اس سے کم پر ہوں تو مسح کرے، نیز اگر تندرست بدن پر پانی بہانے سے زخمی حصہ کو پانی سے بچانا مشکل ہو تو اتنا تندرست حصہ بھی زخمی کے حکم میں شمار ہوگا۔ (ماخذہ: احسن الفتاویٰ ۲/۵۸)

جہاں تک نماز کی ادائیگی کا مسئلہ ہے تو اس کی تفصیل یہ ہے کہ اگر آپ قیام (کھڑے ہو کر نماز پڑھنا) اور رکوع اور سجدے پر قدرت رکھتے ہیں تو اسی طرح فرض و واجب نماز پڑھنا ضروری ہے ورنہ نماز نہیں ہوگی۔ اگر آپ قیام نہیں کر سکتے تو بیٹھ کر نماز (رکوع و سجود کے ساتھ) ادا کی جائے اور بیٹھنے پر بھی قدرت نہ ہو تو نماز لیٹ کر ادا کی جائے گی، لیکن اگر قیام پر تو قادر ہیں مگر رکوع و سجود پر قادر نہیں ہیں تو کھڑے ہو کر یا بیٹھ کر، اشاروں سے رکوع و سجود کر کے نماز ادا کر سکتے ہیں البتہ اس صورت میں بیٹھ کر اشاروں سے رکوع و سجود کے ساتھ پڑھنا افضل ہے۔