لفظ ضاد کو ڈال پڑھنے سے نماز فاسد ہو گی یا نہیں نیز یہ لفظ ظا سے مشابہت رکھتا ہے یا دال سے؟


اگر کوئی شخص جان بوجھ کر باوجود قادر ہونے کے ضاد کی جگہ دال یا ڈال یا ظاء خالص پڑھے گا تو نماز فاسد ہو جائے گی اور اگر بوجہ ناواقفیت کے یہ غلطی سر زد ہو جائے اور وہ اپنے نزدیک یہی سمجھے کہ میں نے حرف ضاد صحیح پڑھا ہے تو نماز صحیح ہو جائے گی جس کا حاصل یہ ہے کہ عوام کی نماز تو بلا کسی تفصیل کے صحیح ہو جاتی ہے لیکن جو لوگ قاری ہوں اور علماء ہوں ان کی نماز کے جواز میں یہ تفصیل ہے کہ اگر غلطی قصداً یا بے پروائی سے ہو تو نماز فاسد ہے اور اگر سبقت لسانی یا ان حروف میں تمیز نہ کرنے کی وجہ سے ہو تو نماز جائز اور صحیح ہے لیکن نماز کے فاسد نہ ہونے کا یہ مطلب نہیں کہ بے فکر ہو کر ہمیشہ غلط پڑھتے رہنا جائز ہے۔ اور پڑھنے والا گناہگار بھی نہ ہو گا بلکہ اپنی قدرت اور گنجائش کے موافق صحیح حروف پڑھنے کی مشق کرنا اور کوشش کرتے رہنا ضروری ہے ورنہ گناہ ہو گا۔

لفظ ضاد کی آواز ادا کرنے میں ظاء کی آواز کے مشابہ ہے دال سے مشابہ نہیں۔

کما فی نھایۃ القول المفید فی علم التجوید (ص: ۷۷) وفی خزانۃ الا کمل: قال القاضی ابو عاصم ان تعمد ذلک تفسد وان جری علی لسانہ اولا یعرف التمیز لا تفسد وھو المختار: حلیۃ وفی البزازیہ: وھو اعدل الا قاویل وھو المختار۔

(شامی/ ۱ : ۶۳۳) (ماخذہ جواھر الفقہ/ ۱ : ۳۳۸)