قرآن مجید میں مطلقہ عورت کی عدت تین ماہ ہے جس کا مقصد شناخت حمل ہے تو پھر بیوہ کی عدت قرآن نے چار ماہ دس دن مقرر کی ہے اس میں کیا حکمت ہے؟


مطلقہ عورت کی عدت علی الاطلاق تین مہینے نہیں جیسے کہ آپ نے سوال میں ذکر کیا ہے بلکہ مطلقہ عورت کی عدت کے مسئلے میں مندرجہ ذیل تفصیل ہے:

اگر عورت بوقت طلاق حاملہ ہو تو اس کی عدت وضع حمل ہے، اور حاملہ نہ ہونے کی صورت میں اگر اس کو حیض آتا ہو تو اس کی عدت تین حیض ہیں، اور اگر بڑھاپے کی وجہ سے حیض آنا بند ہو گیا ہو یا صفر سنی کی وجہ سے ابھی حیض نہ آیا ہو تو اس صورت میں عدت تین مہینے ہیں۔

مطلقہ اور متوفی عنہا عورت کی عدت میں فرق اور اس کی حکمت کے لیے ملاحظہ ہو۔

حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ کی کتاب ’’حجۃ اللہ البالغۃ ص ۱۴۲، ج ۲‘‘ اور حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ کی کتاب ’’المصالح العقلیہ ص ۲۲۴۔ ۲۲۵‘‘۔