سوال یہ ہے اگر کوئی آدمی طلاقِ حسن پر عمل کرتے ہوئے بیوی کو طہر کے اندر ایک طلاق رجعی دے پھر دوسرے طہر کے اندر بغیر رجوع کے دوسری طلاق دے پھر تیسرے طہر کے اندر بغیر رجوع کے تیسری طلاق دے اب اس تیسری طلاق کے بعد عورت مستقل تین حیض عدت گزارے گی یا گزشتہ طلاقوں کے درمیان گزرے ہوئے حیضوں کو شمار کر کے تیسری طلاق کے بعد صرف ایک حیض عدت گزارے گی برائے مہربانی دلائل کی روشنی میں جواب عنایت فرمادیں۔


دوران عدت طلاق دینے سے عدت پر کوئی اثر نہیں پڑتا البتہ رجوع کرنے سے عدت ختم ہو جاتی ہے۔ لہٰذا طلاق حسن پر عمل کرنے کی صورت میں گذشتہ حیض عدت میں شمار ہوں گے اور تیسری طلاق کے بعد عورت صرف ایک حیض عدت گزارے گی ، فتاویٰ رحیمیہ(ج:۸، ص:۴۲۸) میں ہے جس شخص نے طلاق حسن کے مطابق تین طلاقیں دیں اور کسی طلاق کے بعد رجوع نہ کیا تو عدت پہلی طلاق کے بعد ہی سے شروع ہو جائے گی اور تین حیض آجانے سے عدت پوری ہو جائے گی یعنی جب تیسرے طہر میں تیسری طلاق دے گا، تو عدت کے دو حیض گزر چکے ہوں گے اس کے بعد ایک حیض آئے گا تو عدت ختم ہو جائے گی،

لما فی ’’بدائع الصنائع‘‘ : ۔

ثم اذا وقع علیھا ثلاث تطلیقات فی ثلاثۃ اطھار فقد مضی من عدتھا حیضتان ان کانت حرۃ لان العدۃ بالحیض عندنا وبقیت حیضۃ واحدۃ فاذا حاضت حیضۃ اخری فقد انقضت عدتھا الخ کتاب الطلاق: ۳:۸۹ (بیروت)

وفی ’’فتح القدیر‘‘ :

ثم اذا اوقع الثلاثۃ فی ثلاثۃ اطھار فقد مضت من عدتھا حیضتان ان کانت حرۃ فاذا حاضت حیضۃ اقتضت عدتھا کتاب الطلاق ، ع: ۳۲۹ (رشیدیہ)