خلع یافتہ عورت کہ جس کے خاوند نے اپنی رضامندی سے خلوت صحیحہ کے بعد خلع دے دیا ہے اب وہ عورت کسی دوسرے شخص سے نکاح کرناچاہتی ہے۔ اب آیا یہ خلع یافتہ عورت کے لئے عدت گزارنا ضروری ہے یا نہیں اگر عدت ہے تو کتنے ایام کی عدت ضروری ہے۔


سوال میں ذکر کردہ صورت کے مطابق مطلقہ عورت کی طرح خلع لینے والی عورت پر بھی تین حیض عدت گزارنا واجب ہے عدت مکمل ہونے سے پہلے شرعاً کسی دوسرے شخص سے نکاح کرنا جائز نہیں ہے۔

لما فی ’’الحدیث‘‘:

مالک عن نافع ان ربیعۃ بنت معوذ بن عفراء جاء ت ھی وعمتھا الی عبداللّٰہ بن عمر فاخبرتہ انھا اختلعت من زوجھا فی زمن عثمان فبلغ ذلک عثمان بن عفان فلم ینکرہ قال عبداللہ بن عمر عدتھا عدۃ المطلقۃ۔(۲۱۵، مؤطا امام مالکؒ)

وفی ’’الشامیۃ‘‘:

وھی فی حق حرۃ تحیض لطلاق بعد الدخول حقیقۃ أو حکما ثلاث حیض کوامل (۳؍۵۵۴)