ہماری ہمشیرہ صاحبہ جن کے شوہر کا انتقال ہو چکا ہے حاملہ ہیں اور آئندہ اوقات میں خبرگیری کیلئے ان کے شوہر کے گھر میں کوئی مناسب انتظام نہیں ہے ہماری پھوپھی جان جو اس گھر میں رہائش پذیر ہیں وہ ضعیف ہیں وہ خود خدمت کی محتاج ہیں جبکہ ان کی ایک بیٹی انتظام کر سکتی ہے مگر ذہنی ہم آہنگی نہیں اس وجہ سے عدت گزارنے میں دشواری اور پریشانی کا سامنا ہے ان حالات میں ہم اپنی ہمشیرہ کو دیکھ بھال کیلئے اپنے گھر لا سکتے ہیں یا نہیں؟


جس عورت کا شوہر فوت ہو جائے اس عورت کو اپنے شوہر کے گھر پر عدت کے ایام گزارنا ضروری ہے شدید ضرورت اور مجبوری کے بغیر اس گھر سے نکلنا درست نہیں۔

اگر آپ کی ہمشیرہ کی طبیعت انتہائی ناساز ہو اور ان کی جان یا مال کے تلف ہو جانے کا یا صحت بگڑ جانے کا قوی اندیشہ ہو اور اس گھر میں مناسب دیکھ بھال کا انتظام بھی نہ ہو سکتا ہو یا آئندہ کسی بھی وقت ایسی حالت ہو جائے تو انہیں دوسری جگہ منتقل کیا جا سکتا ہے لیکن محض آسائش کی خاطر یا ذہنی ہم آہنگی نہ ہونے کی وجہ سے انہیں دوسری جگہ منتقل کرنا درست نہیں البتہ حمل وضع ہونے کے ساتھ ہی ان کی عدت ختم ہو جائے گی پھر وہ جہاں مرضی جا سکتی ہیں۔

فی الدر المختار: (و تعتدان) ای معتدۃ طلاق و موت (فی بیت وجبت فیہ) ولا یخرجان منہ ( الا ان تخرج او فینھدم المنزل او تخاف) انھدامہ او (تلف مالھا اولا تجد کراء البیت) و نحو ذلک من الضرورات فتخرج لا قرب موضع الیہ (۳: ۵۳۶)