اگر کوئی شخص اپنی بیوی کو کہے کہ تو میری ماں ہے یا ماں جیسی ہے تو کیا طلاق ہو جاتی ہے یا یہ کہنا حرام ہے۔


بیوی کو ماں یا بہن کہنے کی دو صورتیں ہیں۔

۱۔ حرف تشبیہ کے بغیر بیوی کو ماں یا بہن کہا جائے۔ جیسے یوں کہنا کہ ’’تو میری ماںہے یا بہن ہے‘‘ اس کا حکم یہ ہے کہ ایسے جملے استعمال کرنے سے نکاح پر کچھ اثر نہیں پڑتا تاہم ایسے جملوں کا استعمال شرعاً مکروہ ہے۔

۲ ۔ دوسری صورت یہ ہے کہ حرف تشبیہ کے ساتھ بیوی کو کہنا کہ ’’تو میری ماں یا بہن کی طرح ہے‘‘۔ اس کا حکم یہ ہے کہ اگر ایسے جملے استعمال کرتے وقت طلاق کی نیت کی ہو تو طلاق بائن واقع ہو جاتی ہے اور اگر ظہار کی نیت ہو تو ظہارہوگا۔

لما فی ’’الشامیۃ‘‘:

وان نوی بانت علی مثل امی برا او ظھارا او طلاقا صحت نیتہ ووقع مانواہ لانہ کنایۃ والا ینوی شئیا او حذف الکاف لغا (۲؍۶۲۶)

وفیہ ایضا: یکرہ قولہ انت امی الخ (۳؍۴۷۰)