ایک گائوں میں ایک قرآن حافظ ہے اور وہ نماز کا پابند نہیں ہے دوسرا ناظرہ خواں ہے یعنی ناظرہ پڑھا ہوا ہے اور وہ نماز کا پابند ہے تو ان دونوں میں سے کس کو آگے کرکے نماز پڑھنی چاہیے۔


امام بننے کے لئے شریعت نے کچھ اوصاف مقرر فرمائے ہیں ان میں بعض لازمی ہیں یعنی اگر یہ نہ پائے جائیں تو اس شخص کے پیچھے نماز ہی نہیں ہوتی اور بعض اوصاف ایسے ہیں کہ ان کے بغیر نماز ہو جاتی ہے لیکن مکروہ ہوتی ہے۔ اور بعض اوصاف ایسے ہیں کہ ان کا امام مسجد میں ہونا مستحسن اور پسندیدہ ہے۔

۱۔پہلی قسم کے اوصاف یعنی جو لازمی ہیں درج ذیل ہیں۔

۱۔ مسلمان ہو ۔ ۲۔ بالغ ہو۔ ۳۔ دیوانہ یا نشہ کی حالت میں نہ ہو۔ ۴۔ نماز کا طریقہ۔ ۵۔ نماز کی تمام شرائط اس نے مکمل کر رکھی ہوں۔۶۔ ایسے مرض میں مبتلا نہ ہو جس سے اس کا وضو قائم نہ رہتا ہو۔۷۔ رکوع وسجدے پر قادر ہو۔ ۸۔ گونگا ،تتلا یا ہکلا نہ ہو۔

۲۔tدوسری قسم کے اوصاف درج ذیل ہیں۔

۱۔ نیک ہو یعنی کبیرہ گناہوں میںمبتلا نہ ہو۔ ۲۔ فاسد العقیدہ نہ ہو۔ ۳۔ نماز کے ضروری مسائل سے واقف ہو۔ ۴۔قرآن کریم کی تلاوت صحیح طرح کر سکتا ہو۔ ۵۔ کسی ایسے مرض میں مبتلا نہ ہو جس سے اس کی پاکی مشکوک ہو جائے۔ یا لوگ اس سے گھن کھاتے ہوں۔ لیکن یہ کراہت اس وقت ہے جب کہ اس سے بہتر امام مل سکتا ہو۔ اگر نہ مل سکے تو کراہت نہیں ہے۔

۳۔tتیسری قسم کے اوصاف درج ذیل ہیں۔

۱۔ علم دین اور تلاوت میں سب سے بلند درجہ رکھتا ہو۔ ۲۔ خوش اخلاق اور باوقار ہو۔ ۳۔ صفائی ستھرائی تقوی و طہارت کا خیال رکھتا ہو۔ ۴۔ جتنے اوصاف اہل محلہ والوں کی تربیت کے لئے ضروری ہیں اسمیں موجود ہوں۔ ۵۔استغناء کی طبیعت رکھتا ہو۔

مندرجہ بالا اوصاف جس شخص میں زیادہ ہوں اسے مستقل امام بنانا چاہیے۔

لما فی ’’الدر المختار‘‘: والاحق بالامامۃ الاعلم باحکام الصلاۃ الخ (۱؍۵۵۷)