جناب عالی گزارش ہے کہ میں نے جناح سٹی گوادر میں ایک عدد پلاٹ بک کرایا تھا۔ میں نے اُن کو مبلغ ۱۱۲۰۰۰ روپے جمع کروا دئیے تھے مجھے بوجہ مجبوری رقم کی شدید ضرورت پڑگئی میں نے اُن سے درخواست کی کہ مجھے رقم کی ضرورت ہے پلاٹ واپس لے کر رقم عنایت کردیں انہوں نے کہا کہ آپ کو ۱۱۲۰۰۰ سے ۷۳۵۰۰ کاٹ کر صرف ۳۸۵۰۰ دیں گے۔ پلاٹ کی کل رقم ۲۹۴۰۰۰ تھی کل رقم سے 25%رقم فل قیمت سے کاٹیں گے تو آیا یہ رقم اس قدر کاٹنا جائز ہے؟ کیا اُن کے لئے یہ رقم کاٹنا حلال ہے۔ ؟


صورتِ مسئولہ میں ایک دفعہ پلاٹ کی خریداری مکمل ہو چکی تھی اگرچہ ابھی کچھ رقم کی ادائیگی باقی تھی۔ اس لئے اب اگر وہ پلاٹ آپ مالکان کو واپس کرنا چاہتے ہیں تو شرعاً یہ ’’اقالہ‘‘ ہوگا۔ اور اقالہ کے لئے ضروری ہے کہ خریدنے والے اور فروخت کرنے والے کی رضامندی سے پہلی قیمت پر ہو (یعنی جتنی قیمت پر پلاٹ خریدا تھا)۔ لہٰذا مالکان کے لئے پلاٹ واپس لینے کی صورت میں کل قیمت کا 25% کاٹنا جائز نہیں ہے۔

لما فی ’’الفتاویٰ السراجیۃ‘‘:

(الاقالۃ جائزۃ فی البیع بمثل الثمن الاول فان شرط الاقل او الاکثر فالشرط باطل (۱۰۳)