حضور صلی اللہ علیہ وسلم اور خلفائے راشدین کے دور میں عیدالاضحی کی قربانی خلفائے کرام ؓ اور دیگر صحابہ کرام ؓ اپنے گھر میں باقاعدہ کرتے تھے یا نہیں؟ اور حضور اکرم ا خود بھی قربانی کرتے تھے یا نہیں؟ براہ مہربانی قرآن و حدیث کی روشنی میں وضاحت فرمائیں۔


قربانی قرآن پاک اور احادیث رسول اللہ ا سے ثابت ہے ۔ آنحضرت ا پابندی سے قربانی فرمایا کرتے تھے۔ اسی پر تمام صحابہ رضوان اللہ علیھم اجمعین اور تمام امت کا عمل ہے۔

۱۔ قرآن پاک میں اللہ رب العزت کا ارشادہے فصل لربک وانحر، اس آیت میں ’’نحر‘‘ سے مراد قربانی ہے۔

لما فی ’’روح المعانی‘‘:

والاکثرون علی ان المراد بالنحر نحر الاضاحی (۳۰؍۲۴۶)

وفی ’’الحدیث‘‘:

عن ابی ھریرۃ قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم من کان لہ سعۃ ولم یضح فلا یقربن مصلانا۔ (السنن لابن ماجہ : رقم الحدیث ۳۱۲۳)

عن ابن عمر قال اقام رسول اللہ صلی اللہ وسلم بالمدینۃ عشر سنین یضحی۔

(مشکوٰۃ : ۱؍۱۲۹)

وعن جابر بن عبداللہ قال ذبح النبی صلی اللہ علیہ وسلم یوم الذبح کبشین اقرنین املحین موجئین (السنن لابی داوٗد : ۲۸۵۴)