مسلم اور بخاری کی روایات میں اقامت کے کلمات کو ایک مرتبہ پڑھنے کا حکم ہے جبکہ ہمارے ہاں دودفعہ پڑھے جاتے ہیں اس مسئلہ میں رہنمائی فرمائیں۔


احادیث مبارکہ سے اقامت کے کلمات کو ایک ایک بار اور دو دو بار دونوں طرح پڑھنا ثابت ہے اور امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ نے ان روایات کو لیا ہے جس میں دو دو دفعہ اقامت کے کلمات کہنے کا ذکر ہے مثلاً ترمذی میں حضرت عبداللہ بن زید کی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اذان و اقامت دو دو دفعہ ہوتی تھی اسی طرح ’’طحاوی‘‘ اور ’’مصنف ابن ابی شیبہ‘‘ میں بھی حضرت عبداللہ بن زید کی روایت میں اقامت کے کلمات کو دو دو دفعہ پڑھنے کا ذکر ہے۔ ’’مصنف عبدالرزاق‘‘ اور ’’دارقطنی‘‘ میں حضرت بلال رضی اللہ عنہ کا یہ عمل نقل کیا ہے کہ آپ دو دو دفعہ اقامت کے الفاظ کہتے تھے۔

عبداللہ بن زید کی حدیث اس باب میں اصل کی حیثیت رکھتی ہے نیز حضرت بلال کا آخری عمل بھی چونکہ دو دو مرتبہ اقامت کے الفاظ کہنے کا ہے اس لیے حنفیہ نے مذکورہ روایات کو ترجیح دے کر اقامت میں دو دو دفعہ کلمات کہنے کو سنت قرار دیا۔

حوالہ جات اور مزید تفصیل کے لیے ملاحظہ فرمائیں ’’درس ترمذی‘‘ از حضرت اقدس مولانا تقی عثمانی صاحب مدظلہ۔ (ج ۱، ص ۱۶۴)