کیا شاملات زمین اپنے قبضے میں لے کر آباد کرنا جائز ہے؟


گائوں کے ارد گرد ایسی غیر آباد زمین جو سارے گائوں والوں کی مشترکہ ضروریات کے لیے ہوتی ہے مثلاً گھاس اور لکڑی وہاں سے حاصل کی جاتی ہے اور جانوروں کو چرایا جاتا ہے ایسی زمین کسی کے لیے آباد کرنا جائز نہیں ہے اور اگر کوئی آباد کر لے تو وہ مالک نہیں بنے گا۔

فی المجلہ مادہ: ۱۲۷ الا راضی القریبۃ من العمران تترک للاھالی مرعی ومحتصدا ومحتطبا ویقال لھا الا راضی المتروکۃ

اور وہ زمین جس سے آبادی کی ضروریات وابستہ نہ ہوں تو وہ شرعاً ارض موات ہے حکومت کی اجازت سے جو شخص اس کو آباد کرے گا وہ اس زمین کا مالک بن جائے گا۔ فی المجلہ مادہ ۱۲۷۔

الاراضی الموات ھی الا راضی التی لیست ملکا لاحد ولا ھی مرعی ولا محتطبا لقصبۃ اوقریۃٍ وھی بعیدۃ عن اقصی العمران یعنی ان جھیر الصوت لوصاح من اقصی الدور التی فی طرف تلک القصبۃ لایسمع منھا صوتہ الخ۔

سوال میں ذکرہ کردہ شاملات زمین کے ساتھ اگر واقعی گائوں کے دوسرے لوگوں کی ضروریات بھی وابستہ ہیں جیسا کہ سوال سے ظاہر ہو رہا ہے تو اس صورت میں کسی ایک آدمی کے لیے اسے آباد کر کے دوسروں کو اس زمین سے فائدہ اٹھانے سے منع کرنا جائز نہیں بلکہ اسے سب کے لیے کھلا رکھا جائے اور اگر صورتحال اس سے مختلف ہو تو تفصیل لکھ کر دوبارہ سوال کر لیا جائے۔