کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام ڈاکٹر فرحت ہاشمی کے بارے میں کہ وہ عورت سیدھے راستے پر ہے یا غلط اور اس کے عقائد اور نظریات سے آگاہ کریں اور یہ بھی بتائیں کہ اس کی کلاسوں میں جانا اور پڑھنا اور دیگر پروگرامز میں شرکت کرنا اور اس کا ساتھ دینا کیسا ہے براہ کرم اس بارے میں تفصیلاً حکم صادر فرمائیں کیونکہ ہمارے علاقے میں اس کی وبا پھیلنا شروع ہو رہی ہے تاکہ اس فتویٰ کے ذریعے سے لوگوں کو اس سے روکا جائے۔


سوال میں مذکور خاتون کا حقیقی عقائد و نظریات کا قطعی طور پر علم تو ان کی تحریر و تقریر کا جائزہ لینے کے بعد ہی ہو سکتا ہے لیکن ’’الہدیٰ انٹرنیشنل‘‘ کے تحت کورس میں شریک ہونے والے عینی شاہدین نے اس خاتون کے مذکورہ عقائد و نظریات بیان کیے ہیں مثلاً:

(۱) اجماع امت سے ہٹ کر ایک نئی راہ اختیار کرنا جیسے تین طلاقوں کو ایک شمار کرنا، نمازوں کی قضا کا صرف توبہ سے ساقط اور معاف ہو جانا۔

(۲) حق و باطل کی تلبیس مثلاً تقلید کو شرک ماننا وغیرہ۔

(۳) فقہی نوعیت کے اختلافات کے ذریعے سے دین متین میں شکوک و شبہات پید اکرنا۔

(۴) ’’دین میں آسانی ہے‘‘ کے نام سے من مانے دین پر عمل کی ترغیب کہ جیسے جس امام کا جونسا مسئلہ دل کو لگے اس پر عمل درست ہے۔ عورتیں بال کٹوا لیں تو کوئی حرج نہیں وغیرہ۔ ہر شخص ترجمہ قرآن پڑھ کر خود اجتہاد کر سکتا ہے چنانچہ اگر واقعتا مذکورہ خاتون کے اس قسم کے عقائد و نظریات ہیں یا اس خاتون کے علاوہ کسی اور جماعت کے ہوں تو یہ واضح اور کھلی گمراہی کی دلیل اور علامت ہے اور جو شخص مذکورہ بالا نظریات رکھتا ہو اور ان کی تعلیم و تبلیغ کرتا ہو وہ نہ صرف یہ کہ خود گمراہی کے اندر مبتلا ہے بلکہ اس کے اس عمل سے امت مسلمہ کو ناقابل تلافی نقصان، فتنہ اور شر پہنچنے کا قوی اندیشہ ہے۔

لہٰذا اس قسم کے نظریات کی حامل تنظیم جماعت یا شخصیت کے درس میں شریک ہونا اس کی دعوت کو آگے چلانا، جان و مال اور وقت دے کر ان کی مدد و نصرت کرنا، ایک گناہ اور گمراہی کے کام پر مدد و تعاون کرنے کے مترادف ہے جس سے شریعت مطہرہ میں سختی سے روکا گیا ہے نیز ایسے افراد کے ساتھ تعاون کے نتیجے میں جو گمراہی اور فتنہ پھیلے گا اس کا گناہ عظیم مدد کرنے والوں کو بھی پہنچے گا۔ (ماخذہ: فتاویٰ عثمانی)

الغرض! ایسے منافی شریعت عقائد و نظریات کے حامل شخصیت اور جماعت کے ساتھ تعاون و مدد کرنا درست اور جائز نہیں ہے۔ بلکہ اپنی استطاعت اور طاقت کے مطابق اس قسم کے فتنوں سے امت کو بچانے کی کوشش کرنی چاہیے۔

(۱) وتعاونوا علی البرو التقوی ولا تعاونوا علی الاثم والعدوان۔ (پ ۶، المائدہ)

(۲) من رای منکم منکرا فلیغیرہ بیدک فان لم یستطع فلبسانہ فان لم یستطع فبقلبہ وذلک أضعف الایمان۔ (رواہ مسلم وفی المشکوٰۃ)"