آجکل کچھ لوگ علمائے دیوبند کے خلاف بڑا سخت پراپیگنڈہ کر رہے ہیں ان کا دعویٰ ہے کہ امام العصر علامہ انور شاہ کشمیری قرآن میں تحریف پر یقین رکھتے تھے مہربانی فرما کر منسلکہ اٹیچمنٹ کا مطالعہ فرما کر بتائیں کہ انور شاہ کشمیری رحمہ اللہ کا اس سے کیا مقصد تھا؟

ایک غیر دیوبندی نے اس کا ترجمہ کچھ اس طرح کیا ہے:

یہ جان لیں کہ متن کی تحریف میں تین قسم کے نظریات میں ایک گروہ کا خیال ہے کہ تمام سماوی کتب میں ہر طرح سے کی گئی ہے جو کہ بلحاظ مطلب اور بلحاظ متن دونوں پر مشتمل ہے اس خیال سے ابن حزم متفق تھے دوسرے گروہ کا خیال ہے کہ تحریف بڑی معمولی ہے اور ممکن ہے کہ حافظ ابن تمیمہ اس سے متفق ہوں ایک گروہ متن میں تحریف کو رد کرتا ہے یہ گروہ صرف معانی میں تحریف کو مانتا ہے۔ میں کہتا ہوں کہ اس تیسرے خیال کے مطابق یہ ضروری ہے کہ قرآن پاک میں اس قسم کی تحریف کی گئی ہو اور میری تحقیق کے مطابق قرآن کے متن میں بھی تحریف کی گئی ہے البتہ ایسے وہ لوگ ہیں جو غلطی پر ہیں۔


حضرت علامہ انور شاہ کشمیریؒ کی عبارت صاف اور بے غبار ہے، اور اس سے کسی طرح قرآن کریم کا محرف ہونا ثابت نہیں ہوتا، مترجم نے قصداً یا خطأًحضرت شاہ صاحبؒ کی عبارت کا ایسا ترجمہ کیا ہے جس سے غلط معنی ظاہر ہوتا ہے، اور فیہ میں ضمیر کا مرجع متعین کرنے میں واضح غلطی کی ہے۔

حضرت شاہ صاحب کی عبارت کا ترجمہ تحریر کیا جاتا ہے اس کے بعد اس کی توضیع کی جائے گی، ترجمہ یہ ہے:

اور جان لیجیے کہ (سابقہ کتب کی) تحریف میں تین مذاہب ہیں:

(۱) ایک جماعت کا یہ کہنا ہے کہ (سابقہ) آسمانی کتب میں لفظی اور معنوی ہر قسم کی تحریف واقع ہوئی ہے، علامہ ابن حزم کا میلان اسی جانب ہے۔

(۲) دوسری جماعت یہ کہتی ہے کہ (سابقہ آسمانی کتب میں) تحریف کم ہوئی ہے، (مگر ہوئی ضرور ہے) شاید علامہ ابن تیمیہ کا رجحان بھی اسی طرف ہے۔

(۳) تیسری جماعت کا یہ کہنا ہے کہ (سابقہ آسمانی کتب میں) لفظی تحریف بالکل نہیں ہوئی ان کے نزدیک (سابقہ کتب میں) ساری کی ساری تحریف معنوی ہوئی ہے۔ (حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں) میں کہتا ہوں (کہ تیسری جماعت کی بات درست نہیں کہ سابقہ کتب میں تحریف لفظی نہیں ہے معنوی ہے ورنہ) اس مسلک والوں کے خیال کے مطابق لازم آئے گا کہ قرآن بھی محرف ہو کیونکہ معنی کے اعتبار سے قرآن کریم میں بھی تحریف کم نہیں (لہٰذا سابقہ کتابوں میں صرف تحریف معنوی ماننا درست نہیں) میرے نزدیک صحیح بات یہ ہے (سابقہ کتب میں) تحریف لفظی بھی ہوئی ہے یا جان بوجھ کر کی گئی ہے اور یا کسی مغالطہ کی وجہ سے واقع ہوئی ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم۔

مذکورہ عبارت پر غور کریں، آپ کو واضح طور پر سمجھ آئے گا کہ حضرت شاہ صاحب اس بات کا فیصلہ فرمانا چاہتے ہیں کہ سابقہ کتب میں تحریف لفظی و معنوی دونوں ہوئی ہیں یا صرف تحریف معنوی ہوئی ہے؟ حضرت شاہ صاحب کی رائے یہ ہے کہ سابقہ کتب میں تحریف صرف معنوی نہیں ہوئی کہ لوگوں نے ان کتابوں کے الفاظ کو بعینہ برقرار رکھا ہو اور صرف معنی میں کمی بیشی اور تغیر و تبدل کیا ہو، اگر سابقہ کتب میں فقط تحریف معنوی کو تسلیم کیا جائے تو اس مسلک کے مطابق تو ایسی تحریف قرآن کریم میں بھی ہوئی ہے کیونکہ قرآنی آیات کے غلط معانی بہت سے لوگوں نے کیے ہیں جیسے غلام احمد پرویز وغیرہ نے مفہوم القرآن میں قرآنی آیات کے غلط معانی بیان کیے تو اس مسلک کے مطابق سابقہ کتب کو ہی محرف ماننے کی کیا تخصیص رہ جاتی ہے، لہٰذا صحیح بات یہ ہے کہ سابقہ آسمانی کتب میں تحریف لفظی اور معنوی دونوں طرح ہوئی ہے جس سے اللہ ربّ العزت نے اپنی آخری کتاب کو محفوظ رکھا ہے۔"