میرے والد صاحب نے اپنی زندگی میں ایک مکان بنوایا تھا اور اس میں میں نے بھی پیسہ لگایا تھا اب والد صاحب کا انتقال ہو چکا ہے۔ اب ہم دو بہنیں اور دو بھائی اور ایک سوتیلی والدہ زندہ ہیں اب میراث کی تقسیم کا شرعی طریقہ کار کیا ہوگا؟ اور میں نے جو خرچہ مکان پر کیا ہے اس کا شرعی حکم کیا ہے؟


جتنا پیسہ آپ نے پہلے مکان میں لگایا تھا اسی قدر آپ وصول کر سکتے ہیں سارا مکان آپ نہیں رکھ سکتے باقی حصہ آپ کو تمام ورثاء میں ان کے حصص شرعیہ کے بقدر تقسیم کرنا ہوگا جو کہ مندرجہ ذیل ہیں ترکہ کے کل آٹھ حصے کر کے 1/8 بیوہ کو دے دیں جو کہ آپ کی سوتیلی والدہ ہے اور دو حصے آپ کے دو حصے آپ کے بھائی کے اور ہر بہن کو ایک ایک حصہ دے دیں۔"