میرے والد صاحب کے 2 بیٹے اور 5 بیٹیاں ہیں جبکہ ہماری والدہ بھی زندہ ہیں ان ورثاء میں جائیداد کس طرح تقسیم ہوگی؟


صورت مسئولہ میں مرحوم کے کل مال و جائیداد کے 72 حصے کریں گے جن میں سے 9 حصے بیوہ کو اور 14 حصے ہر ایک بیٹے کو اور سات سات حصے ہر ایک بیٹی کو ملیں گے بشرطیکہ کوئی اور شرعی وارث نہ ہو۔{ بیٹی کو جہیز دینے سے حق میراث ختم نہیں ہوتا}

سوال: میرے سسر کہتے ہیں کہ میں نے اپنی بیٹی کو وراثت میں جو دینا تھا وہ میں نے اس کی شادی پر خرچ کر دیا (یعنی شادی کا خرچہ اور جہیز وغیرہ) اور یہ کہ ہمارے خاندان میں ایسا ہی ہوتا ہے کہ لڑکی کو میراث میں سے کوئی حصہ نہیں ملتا۔ جو بھی اس کو دینا ہو وہ شادی پر لگا دیتے ہیں۔ قرآن و سنت کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں کہ کیا ایسا کرنا ٹھیک ہے؟

بیٹی کو محض جہیز وغیرہ دے دینے سے میراث سے اس کا حق شرعی ختم نہیں ہوتا، اس لیے والد کے بیٹی کو جہیز وغیرہ دینے کے باوجود بھی بیٹی والد کے انتقال کے بعد میراث میں سے اپنے شرعی حصے کی حقدار ہوگی اور دیگر ورثاء پر لازم ہوگا کہ وہ اس کو شرعی حصہ مالک و قابض بنا کر اس کے حوالے کر دیں ایسا نہ کرنے کی صورت میں دیگر ورثاء سخت گنہگار ہوں گے۔ (ہندیہ ۵/۳۹۱)



{ تقسیم وراثت کی ایک صورت }

سوال: تمام ورثاء درجِ ذیل ہیں: جب پھوپھی جان کا انتقال ہوا اس وقت مندرجہ ذیل وارث بنائے۔ (۱) میرے ابو متوفیہ کے بھائی۔ (۲) چچا۔ (۳) چھوٹے تایا۔ (۴) بڑے تایا۔ (۵) چھوٹی پھوپھی۔ یعنی متوفیہ کے تمام بہن بھائی، لیکن ابھی تقسیم ہوئی نہ تھی کہ گذشتہ رمضان میں میرے والد صاحب کا انتقال ہو گیا اب سوال یہ ہے کہ میرے والد صاحب کا حصہ ہم بہن بھائیوں میں تقسیم ہو گا یا نہیں؟

آپ کی پھوپھی کی وفات کے وقت اگر واقعتا صرف ان کے چار بھائی اور ایک بہن زندہ تھی ان کے علاوہ اولاد اور والدین وغیرہ میں سے کوئی اور وارث نہیں تھا تو ان کے کل ترکہ میں سے بعد تجہیز و تکفین اور قرض و وصیت کی ادائیگی کے کل نو حصے کرکے ہر بھائی کو دو دو حصے اور بہن کو ایک حصہ دیا جائے گا۔ آپ کے والد کے حصہ میں جو مال آئے گا وہ آپ کے والد کی وفات کے بعد ان کے دیگر ترکہ میں شامل ہو کر ان کے شرعی ورثاء میں شرعی حصوں کے مطابق تقسیم کیا جائے گا۔"