قربانی کے لیے کیا حکم ہے اور کس پر واجب ہوتی ہے کیا یہ ہر فرد خانہ کی طرف سے الگ الگ دینی ہوتی ہے یا مثلاً عبداللہ اپنی بیوی والدہ اور والد صاحب کے ساتھ اکٹھے رہتے ہیں ان کو کتنی قربانیاں دینی ہوں گی؟


قربانی کے وجوب میں افرادِ خانہ میں سے ہر ایک کی ملکیت کا علیحدہ حساب ہوگا۔ گھر کے عاقل بالغ افراد اگر صاحب نصاب ہوں یعنی قربانی کے دنوں میں ان کی ملکیت میں ساڑھے باون تولہ چاندی یا اس کی مالیت کے بقدر سونا، نقدی، مالِ تجارت اور ضرورت سے زائد سامان ہو تو اس پر شرعاً قربانی کرنا واجب ہے تمام افرادِ خانہ کی طرف سے ایک قربانی کافی نہیں۔

لاصدقۃ الا عن ظھر غنی، الید العلیا خیر من الید السلفلی۔

(فتح القدیر ۲/۳۱) (فتح القدیر ۲/۱۲۹، مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ)"