قرآن و حدیث میں داڑھی کا کیا حکم ہے؟


داڑھی انبیاء علیہم السلام کی سنت قدیمہ ہے اور شعائر اسلام میں اس کا شمار ہوتا ہے۔ فقہاء کرام کی تحقیق کی روشنی میں داڑھی کا رکھنا واجب ہے جس کی مقدار ایک مشت ہے اس سے کم داڑھی رکھنا خلافِ سنت ہے۔

کمارواہ امام ابو یوسفؒؒ یعقوب بن ابراہیم الانصاری عن ابن عمرؓ انہ کان یقبض علی لحیتہ فیاخذ منھا ماجاوز القبضۃ ( کتاب الآثار ص ۲۳۴)

البتہ داڑھی کی حدود کے علاوہ چہرے کے زائد بالوں کے دور کرنے میں کوئی قباحت نہیں حدود سے تجاوز کرنا جائز نہیں۔

عن عمر و بن شعیب عن ابیہ عن جدہ ان النبی صلی اللہ علیہ وسلم کان یاخذ من لحیتہ من عرضھا وطولھا۔ (ترمذی ص ۱۰۵، ج ۲)"