میں نے پڑھا ہے کہ جب لڑکی بالغ ہو جائے تو روزہ فرض ہو جاتا ہے میرے گھر میں دیگر افراد کا خیال ہے کہ ۱۸ سال کی عمر ہی سن بلوغت ہے جب کہ دوسرے لوگ کہتے ہیں کہ ۱۸ سال نہیں بلکہ سن بلوغت کی نشانی ماہواری آنا ہے۔


لڑکی کے بالغ ہونے کی علامات یہ ہیں:

(الف) اس کو ماہواری شروع ہو۔ (ب) وہ حاملہ ہو جائے۔ (ج) اگر ماہواری شروع نہ ہو اور نہ ہی حاملہ ہو اور پھر اس کی عمر چاند کے حساب سے پندرہ سال ہو جائے تو وہ بالغ شمار ہوگی۔

۹ سال کی عمر کے بعد بچی بالغ ہو سکتی ہے اس لیے اٹھارہ سال کی عمر کو سن بلوغت قرار دینا غلط ہے۔ لہٰذا اگر بچی ۹ سال کے بعد بالغ ہو جائے تو اس پر نماز و روزہ اور شرعی پردہ فرض ہو جاتا ہے۔

بلوغ الغلام بالاحتلام او الاحبال اوالانزال والجاریۃ بالاحتلام اوالحیض او الحبل کذافی فی المختار والسن الذی یحکم ببلوغ الغلام والجاریۃ اذا انتھیا الیہ خمس عشرۃ سنۃ عند ابی یوسف و محمد رحمھما اللہ تعالٰی وھو روایۃ عن ابی حنیفۃ رحمہ اللہ تعالٰی وعلیہ الفتوی۔ (ہندیۃ ۵/۶۱)"