مشت زنی کا شرعی حکم کیا ہے؟ اور اس کے بچنے کا طریقہ کیا ہے؟


مشت زنی شرعاً ممنوع ہے اور اس کا مرتکب گنہگار ہوتا ہے۔ اس سے بچنے کا طریقہ یہ ہے کہ آپ اپنی نظروں کی حفاظت فرمائیں کسی غیر عورت پر نظر نہ پرے جب کسی اجنبیہ پر نظر پڑے گی تو ترغیب ہی نہ ہوگی۔ نظر کی حفاظت کے علاوہ اور کوئی زنا سے تحفظ کا راستہ نہیں ہے۔ اگر طبیعت میں شہوت کا غلبہ ہو تو اس کو روزے رکھ کر کم کیا جائے مسلسل روزوں سے شہوت ٹوٹتی ہے۔ حدیث مبارک میں شہوت کو کم کرنے کا یہی علاج بتایا گیا ہے۔ اگر شہوت کا غلبہ ہو اور زنا میں مبتلا ہونے کا خوف ہو تو ایسے وقت نکاح کرنا واجب ہو جاتا ہے البتہ اگر بیوی کے جملہ حقوق نان نفقہ کی ادائیگی پر قادر نہ ہو تو پھر روزے رکھے۔

عن عبداللہ بن مسعود قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یا معشر الشباب من استطاع منکم الباء ۃ فلتیزوج فانہ اغض للبصر واحصن للفرج ومن لم یستطع فعلیہ بالصوم فانہ لہ وجاء متفق علیہ۔ (مشکوٰۃ ص ۲۶۷)"