سورۃ عرفات آیت نمبر ۱۸۷ میں جب یہ صاف ظاہر ہے کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو معلوم نہیں کہ قیامت کب آئے گی تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے کس طرح قیامت کی نشانیاں بتائی ہیں جب کہ مذکورہ آیت سے واضح ہے کہ قیامت اچانک آئے گی تو یہاں یعنی آیت نمبر ۱۸۷ سورہ عرفات میں ان نشا نیوں کا ذکر کیوں نہیں جو احادیث میں آئی ہیں جب کہ قرآن میں ایک بھی نشانی قیامت کے بارے میںنہیں۔ مہربانی کر کے تفصیلی جواب دیں۔


اللہ تعالیٰ نے قیامت کے آنے کا قطعی اور حتمی علم کسی کو نہیں دیا کہ وہ فلاں سن، فلاں مہینہ اور فلاں تاریخ میں وقوع پذیر ہوگی، بلکہ اس کا علم اللہ تعالیٰ نے اپنے پاس محفوظ رکھا ہے اور یہ بھی ثابت ہے کہ قیامت اچانک آئے گی اس کے آنے سے قبل اس کے متعینہ لمحات میں وقوع پذیر ہونے کا حقیقی علم کسی کو نہ ہوگا، البتہ قیامت سے قبل علاماتِ قیامت کا تفصیلی تذکرہ متعدد احادیث میں موجود ہے۔ احادیث میں مذکور اس تفصیل سے کسی کو یہ معلوم نہیں ہو سکتا ہے کہ قیامت فلاں سن، فلاں مہینہ اور فلاں دن میں آئے گی لہٰذا علامات قیامت کا ذکر، قیامت کے اچانک آنے اور قیامت کی تاریخ کے غیر معلوم متعین ہونے کے خلاف نہیں۔

دراصل سائل کو اشتباہ اس بات سے ہوا ہے کہ اس نے احادیث میں علامات قیامت کے تذکرہ کو قیامت کے وقوع کی حقیقی تاریخ متعین کرنے کی دلیل سمجھ لیا ہے جبکہ یہ خیال سراسر غلط ہے جن آیات و احادیث میں یہ موجود ہے کہ قیامت کے وقوع کا کسی کو علم نہیں ان کا مطلب یہ ہے کہ جس ساعت، لمحہ اور گھڑی میں قیامت آئے گی اس ساعت لمحہ اور گھڑی کا کسی کو تاریخ کی تعین کے ساتھ علم نہیں، اس اعتبار سے وہ اچانک آئے گی، اور جن احادیث میں علامات کا تذکرہ ہے ان سے کہیں بھی یہ متعین نہیں ہوتا کہ قیامت فلاں تاریخ میں واقع ہوگی۔

لہٰذا جب علاماتِ قیامت کے تذکرہ اور قیامت کا وقت نامعلوم ہونے کے درمیان کوئی تعارض نہیں تو یہ سوال بھی بے جا ہے کہ علاماتِ قیامت کا ذکر قرآن کریم میں کیوں نہیں؟ اس کا ذکر صرف احادیث میں کیوں ہے؟ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں ساری باتوں کا استیعاب نہیں فرمایا چنانچہ مسائل نماز اور مناسک حج کا تفصیلی ذکر احادیث میں ہے جبکہ ان کا اجمالی حکم قرآن کریم میں ہے، آیا یہ سوال کرنا بجا ہوگا کہ نماز کے ان مسائل اور حج کے ان طریقوں کا ذکر قرآن کریم میں کیوں نہیں؟"