بچوں کی پرورش کس کی ذمہ داری ہے اس پرورش میں کیا دادی، دادا، نانی، نانا یا دیگر رشتہ داروں کا کوئی خصوصی فرض ہے؟


حضانت کا لغوی معنی پرورش کرنا، کہا جاتا ہے۔ حضن الطائر بیضہ

جب پرندہ اپنے پروں کے نیچے انڈے رکھ کر انہیں گرمائش دے۔

حضنت المرأۃ صبیھا، جب کوئی عورت اپنے بچے کو گود میں لے یا اس کی پرورش کرے۔

(لسان العرب، مادہ حضن)

شرعی معنی: جو اپنے امور کو بذات خود انجام نہ دے سکے اس کا خیال رکھنا، اور مصالح کے مطابق اس کی تربیت کرنا۔ (الموسوعۃ الفقیہۃ ج ۱۷، ص ۲۹۹)

بچوں کی حضانت ایک شرعی حق ہے جو متعلقہ افراد کو ملتا ہے اس حق میں اس ناسمجھ بچے کی بہتری پیش نظر ہوتی ہے جو خود سے اپنے آپ کو نہ سنبھال سکتا ہے اور نہ تربیت کرنے والے کی تربیت و پرورش کے مراحل سے گذرے بغیر عمدہ اوصاف کا حامل ہو سکتا ہے۔ اس کو اس بات کی ضرورت ہے کہ کھانے پینے، پہننے، سونے، جاگنے اور صفائی کرنے میں کوئی اس کی ہر وقت نگرانی کرے اور مناسب اوقات پر مناسب انتظامات کے لیے ہر وقت مستعدر ہے۔

دیگر حقوق کے برعکس حق حضانۃ (پرورش کے حق) میں عورتیں مردوں پر مقدم ہوتی ہیں، ان کو یہ حق مردوں کی نسبت ترجیحاً ملتا ہے، کیونکہ عورتوں میں شفقت و مہربانی کے ساتھ بچوں کی پرورش کے اس حق کو انجام دینے کا نمایاں ہوتا ہے، چنانچہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:

ان امرأۃ قالت: یارسول اللہ، ان ابنی ھذا کان بطنی لہ وعاء وثدیی لہ سقاء وحجری لہ حواء وان اباہ طلقنی واراد ینتزعہ منی فقال لہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ’’انت احق بہ مالم تنکحی‘‘۔ (ابودائود، ج ۱ ، ص ۳۱۷)

ایک عورت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آکر عرض کرنے لگی، یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرا یہ بیٹا، میرا شکم اس کا برتن بنا رہا، میرے سینے سے یہ سیراب ہوتا رہا اور میری گود اس کی پرورش گاہ رہی، اس کے باپ نے مجھے طلاق دے دی اور اب مجھ سے بیٹا بھی چھیننا چاہتا ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو بیٹے کی زیادہ حقدار ہے جب تک تو آگے کہیں نکاح نہیں کرتی۔

حضرت سعید بن مسیب رحمہ اللہ فرماتے ہیں: کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ام عاصم کو طلاق دے دی، اُم عاصم کی گود میں بچہ تھا، حضرت عمر رضی اللہ عنہ آئے اور عاصم بچے کو لینا چاہا، حضرت عمر رضی اللہ عنہ ادرام عاصم دونوں نے اس بچہ کو اپنی جانب کھینچا، وہ بچہ رونے لگا، یہ دونوں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس (فیصلہ کے لیے) چلے گئے، حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: عمر! اس کی ماں کا ہاتھ پھیرنا، گود اور خوشبو بھی بچے کے لیے تیرے سے بہتر ہے۔ یہاں تک کہ بچہ بڑا ہو جائے اور اپنے لیے کچھ اختیار کر سکے۔

(ابن شیبہ بحوالہ زیلعی ج ۲، ص ۵۲)

مندرجہ بالا روایات سے یہ واضح ہے کہ حق حضانت میں عورتیں مردوں پر مقدم ہوتی ہیں، البتہ حق ولایت (ولی اور سرپرست ہونے کا حق) مردوں کو حاصل ہوتا ہے جس کی تفصیل کتب فقہ میں موجود ہے، ہمارے پیش نظر فقط حق حضانت سے متعلقہ امور کو ذکر کرنا ہے۔

حق حضانت کی ترتیب:

جب بچہ کے والدین رشتہ زوجیت سے منسلک ہوں تو بچہ دونوں کی تربیت میں پرورش پاتا ہے، لیکن اگر طلاق یا وفات وغیرہ کی وجہ سے دونوں کے درمیان تفریق ہو جائے تو بالاتفاق ماں کو حق حضانت حاصل ہوتا ہے اگر ماں موجود نہ ہو تو مندرجہ ذیل ترتیب کے مطابق یہ حق منتقل ہو جاتا ہے۔

ماں کے بعد نانی، اس کے بعد دادی، پھر حقیقی بہن، اس کے بعد ماں شریک بہن، پھر باپ شریک بہن، اس کے بعد حقیقی بہن کی بیٹی، اس کے بعد ماں شریک بہن کی بیٹی اس کے بعد حقیقی خالہ، اس کے بعد ماں کے اعتبار سے خالہ، اس کے بعد باپ کے اعتبار سے خالہ اس کے بعد باپ شریک بہن کی بیٹی، اس کے بعد حقیقی بھائی کی بیٹی پھر ماں شریک بھائی کی بیٹی، اس کے بعد باپ شریک بھائی کی بیٹی، اس کے بعد حقیقی پھوپھی، پھر ماں کے اعتبار سے پھوپھی، پھر باپ کے اعتبار سے پھوپھی، پھر ماں کی خالہ، اس کے بعد باپ کی خالہ اس کے بعد ماں اور باپ کی پھوپھیاں، اس کے بعد وراثت کی ترتیب کے مطابق عصبات کو حق حضانت حاصل ہوگا، چنانچہ سب سے پہلے باپ کو یہ حق حاصل ہوگا۔ اس کے بعد دادا کو، پھر حقیقی بھائی کو یہ حق ملے گا آخر تک ....... عصبات کی ترتیب کے مطابق، اور عصبات کے نہ ہونے کی صورت میں یہ حق ذوی الارحام کی طرف منتقل ہو جائے گا، جس کی تفصیل فقہ کی کتب میں موجود ہے۔

(ملخص: ردالمحتار مع الدرالمختار ۲/۶۹۲۔ ۲۹۴)

امام مالک، امام شافعی اور امام احمد رحمہم اللہ کے نزدیک بھی حق حضانت میں سب سے مقدم ماں ہے، ماں کے بعد حضانت کے استحقاق میں ان کے نزدیک صورتیں قدرے مختلف ہیں جس کی تفصیل ان کی کتب فقہ میں دیکھی جا سکتی ہے۔

حضانت کے استحقاق کی شرائط:

استحقاق حضانت کی درج ذیل شرائط ہیں:

(۱) پرورش کرنے والے کا بالغ اور عقلمند ہونا ضروری ہے اگر وہ بالغ یا عقلمند نہیں تو وہ خود پرورش اور دیکھ بھال کا محتاج ہے وہ دوسرے کی پرورش کس طرح کرے گا؟

(۲) اگر پرورش کرنے والی عورت کافرہ ہے تو اس کو حق حضانت اس وقت تک حاصل رہے گا جب تک بچہ دین کی سمجھ نہ رکھتا ہو، اور جب یہ اندیشہ ہو کہ بچہ کافرانہ طریقوں سے مانوس ہونے لگا ہے تو پھر اس بچہ کو کافرہ کی پرورش سے نکال کر کسی مسلمان کی پرورش میں دے دیا جائے گا۔

(۳) اگر پرورش کرنے والا ایسا فاسق ہو کہ اس کے فسق کا ضرر بچہ پر پڑے اور بچہ کی تربیت خراب ہونے کا اندیشہ ہو تو اس کا حق حضانت ساقط ہو جائے گا لیکن اگر اس کے فسق و فجور کی طرف مائل ہونے کا اندیشہ ہو تو پھر فاسق شخص سے لے لیے جائے گا۔

(۴) پرورش کرنے والا بچہ کی دیکھ بھال کی استطاعت رکھتا ہو۔ بوڑھا، بیمار، نابینا او رکام کاج کے لیے زیادہ اوقات گھر سے باہر گذارنے والا شخص، بچہ کی دیکھ بھال بہتر طریقہ سے نہیں کر سکتا، جس کی وجہ سے بچہ کے ضائع ہونے کا اندیشہ ہو گا لہٰذا ایسے بے استاسعت لوگوں کا حق حضانت بھی ساقط ہو جائے گا۔

(۵) پرورش کرنے والی عورت کا استحقاق اس وقت ختم ہو جاتا ہے جب وہ اجنبی مرد سے شادی کر لے، ہاں اگر وہ بچہ کے قریبی رشتہ دار سے شادی کرتی ہے تو اس کا حق حضانت ختم نہیں ہوتا۔ (ملخص: ردالمحتار ج ۲ ، ص ۶۸۸، ۶۹۴، و بدائع الصنائع ج ۴، ص ۴۳، ۴۴)

حضانت کے دوران بچہ کو دوسرے مقام پر لے جانا:

اگر بچہ کی ماں شوہر کی عدت میں ہے تو دورانِ عدت وہ خود بھی شوہر کے گھر میں رہے گی اور بچہ کو بھی وہیں رکھے گی۔ لیکن عدت ختم ہونے کے بعد وہ مندرجہ ذیل مقامات کی طرف مدت حضانت کے دوران بچہ کو لے جا سکتی ہے۔

(۱) کسی قریبی شہر کی طرف لے جا سکتی ہے جس شہر کا ماحول شوہر کی جائے سکونت کے ماحول جیسا ہو، اور جہاں باپ دادا وغیرہ اگر چاہیں تو دن دن میں بچہ کو مل کر رات ہونے سے قبل واپس گھر آسکیں۔

(۲) ایسے دور شہر کی طرف بھی لے جا سکتی ہے جو شہر اس عورت کا وطن ہو اور شوہر نے اس شہر میں اس عورت کے ساتھ نکاح کیا ہو لیکن عورت بچہ کو کافروں کے ملک کے شہر کی طرف نہیں لے جا سکتی۔ (ردالمحتار ج ۲، ص ۶۹۸، بدائع ج ۴، ص ۴۴)

بچہ جب والدین میں سے کسی ایک کے پاس ہو تو وہ دوسرے کو بچے سے ملاقات کرنے سے منع نہیں کر سکتا، لیکن اس کو اس بات پر مجبور بھی نہیں کیا جا سکتا کہ وہ بچہ کو اس کے ساتھ دوسری جگہ بھیج دے۔

حضانت کا معاوضہ:

اگر بچہ کی ماں اس کے باپ کے نکاح میں ہو یا طلاق رجعی کی عدت میں ہو تو پھر حضانت کی اجرت کا مطالبہ نہیں کر سکتی اور اگر پرورش کرنے والی عورت ماں کے علاوہ ہو یا ماں ہو لیکن اس کی عدت ختم ہو چکی ہو یا وہ طلاق بائن کی عدت میں ہو تو وہ حضانت کی اجرت کا مطالبہ کر سکتی ہے، بشرطیکہ بچہ کی کوئی دوسری محرم رشتہ دار حضانت کے لیے میسر نہ ہو، اگر بچہ کا ذاتی مال موجود ہو تو اس میں سے اس کو اجرت دی جائے گی اور اگر بچہ کا مال موجود نہ ہو تو باپ کے مال میں سے اس کو اجرت ملے گی یا جن لوگوں پر بچہ کا خرچہ واجب ہو گا ان کی جانب سے اجرت وصول کرے گی۔

(ردالمحتار ج ۲، ص ۶۸۹، ص ۶۹۱)

مکان کا کرایہ:

اگر پرورش کرنے والی عورت بچہ کے باپ کی رہائش گاہ میں رہ رہی ہے یا اپنی ذاتی رہائش میںپرورش کر رہی ہے تو اس کو مکان کے کرایہ کے مطالبہ کا حق حاصل نہیں لیکن اگر پرورش کرنے والی کا کوئی گھر نہیں اور اسے کرایہ پر مکان لے کر رہنا پڑے تو مدت حضانت کے دوران مکان کا کرایہ اس شخص پر واجب ہوگا جس پر بچہ کا خرچہ واجب ہے۔ (ردالمحتار ج ۲، ص ۶۹۲)

حق حضانت کا اختتام:

بچوں کی حضانت (پرورش) کا آغاز ولادت کے بعد ہو جاتا ہے، جیسے ہی بچہ پیدا ہو اس کی حضانت سابق میں ذکر کردہ ترتیب کے مطابق شروع ہو جائے گی، اور یہ بات گذر چکی ہے کہ بچہ کی حضانت کا حق مردوں کو ترجیحاً حاصل ہوتا ہے، اگر زوجین کے درمیان رشتہ زوجیت موجود ہو تو ظاہر ہے کہ بچہ گھر میں ماں کی حضانت اور باپ کی ولادت میں پرورش پاتا ہے، لیکن اگر دونوں میں جدائی ہو جائے تو بچے کی پرورش کا حق ماں کو حاصل ہو گا اور یہ حق کب تک حاصل رہے گا اور کب اس کا اختتام ہوگا؟ اس بارے میں حضرات آئمہ کرام کے مختلف اقوال ہیں ان کو بالتفصیل یہاں ذکر کیا جاتا ہے۔

(۱) فقہ حنفی کے مطابق لڑکا ماں کی پرورش میں رہے گا یہاں تک کہ وہ پرورش سے مستغنی ہو جائے، خود کھا پی سکے، کپڑے وغیرہ پہن سکے اور استنجا وغیرہ کر سکے اور بچہ تقریباً سات سال کی عمر میں یہ باتیں سیکھ جاتا ہے، اس لیے سات سال کی عمر تک بچہ ماں کی پرورش میں رہے گا اور ایک قول کے مطابق بچہ نو سال تک ماں کی پرورش میں رہے گا۔

اگر پرورش کرنے والی ماں، نانی یا دادی ہو تو بچی بالغ ہونے تک ان کی پرورش میں رہے گی اور ان کے علاوہ کوئی اور پرورش کرنے والا ہو تو بچی نو سال تک ان کی پرورش میں رہے گی۔ امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ بچی خواہ ماں وغیرہ کی پرورش میں ہو یا کسی اور کی پرورش میں بہرحال جب وہ نو سال کی ہو جائے تو اس کی حضانت ختم ہو جائے گی۔

جب ماں، نانی اور دادی وغیرہ کی حضانت کا حق ختم ہو جائے تو بچہ یا بچی باپ دادا وغیرہ کو دے دئیے جائیں گے تاکہ وہ ان کی تعلیم و تربیت اور شادی وغیرہ کا بندوبست کریں۔

بچہ یا بچی کو اس بات کا اختیار نہیں دیا جائے گا کہ وہ ماں اور باپ میں سے جس کے پاس رہنا پسند کریں اس کے پاس رہیں کیونکہ ان بچوں کو وہ بالغ نظری حاصل نہیں کہ وہ دینی اور دنیاوی بھلائیوں کو پیش نظر رکھتے ہوئے کسی ایک طرف کا بہتر انتخاب کر سکیں بلکہ یہ تو ابھی کھیل کود کو پسند کرتے ہیں اور جس کی طرف ان کو کھیل تماشا زیادہ ملے گا وہ ادھر جائیں گے اور جس طرف تعلیم و تعلم اور سیرت و اخلاق کی تعمیر کی بات ہوگی وہ اس طرف سے بھاگیں گے۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشادِ گرامی ہے:

جب تمہارے بچے سات سال کے ہو جائیں تو ا نہیں نماز کا حکم دو اور جب دس سال کے ہو جائیں تو نماز نہ پڑھنے پر ان کو (مناسب انداز سے) مارو اور ان کے بستر الگ الگ کر دو۔ (الحدیث)

ظاہر ہے کہ بچوں کو مذکورہ بالا آداب سکھانے کا حکم سرپرستوں کو دیا جارہا ہے کہ وہ بچوں کی تربیت اس نہج پر کریں کہ وہ خدا کے فرمانبردار بن جائیں اور اس کے احکام کی تعمیل کریں، ہاں اگر بچہ کا کوئی مرد سرپرست زندہ نہ رہا ہو تو پھر یہ حکم ماں، نانی وغیرہ کے لیے ہوگا اور ان کی یہ ذمہ داری ہوگی کہ وہ بچہ کی عمدہ تربیت کریں۔

تجربہ اور مشاہدہ اس بات پر شاہد ہے کہ جو بچے ماں کی گود سے ہمیشہ کے لیے چمٹے رہیں وہ مردوں کی نسبت عورتوں کے مزاج سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں اور مردانہ طریقوں پر ان کو کچھ زیادہ عبور نہیں ہوتا وہ صنف نازک کی لطافت سے متاثر ہو کر مردانہ وقار سے محروم رہتے ہیں ہاں ماں کی گود بیٹی کی پرورش کے لیے زیادہ مفید ہے اس لیے وہ بالغ ہونے تک ماں کی پرورش میں رہے گی۔

حدیث میں ہے کہ جب حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کی بیٹی کی پرورش کے بارے میں حضرت علی، حضرت جعفر اور زید رضی اللہ عنہم نے اختلاف کیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بچی کو اختیار دئیے بغیر حضرت جعفر رضی اللہ عنہ کی پرورش میں دے دیا کیونکہ وہاں ان کی خالہ حضرت جعفر رضی اللہ عنہ کے گھر میں موجود تھیں اور خالہ کو اس بچی کی پرورش کا حق حاصل تھا۔

(دیکھئے اعلاء السنن، ج ۱۱، ص ۲۶۹۔ ۶۷۱)

جب بچہ بالغ ہو جائے اور عقلمند اور سمجھدار بھی ہو تو اس کو اختیار دیا جائے گا کہ وہ جس کے ساتھ رہنا چاہے رہ سکتا ہے اب وہ اپنے نفع اور نقصان کا خود ذمہ دار ہے، لیکن اگر سرپرست یہ دیکھے کہ اس کو بااختیار کر کے چھوڑ دینے سے اس کا ناقابل تلافی نقصان ہوگا تو اس کو اپنے ساتھ بھی رکھ سکتا ہے۔ اور لڑکی بالغ ہونے کے بعد والد یا دادا کے پاس رہے گی، ہاں جب وہ ایسی عمر میں پہنچ جائے کہ اب اس کے بارے میں کسی قسم کا خوف و اندیشہ نہ ہو تو اس کو بھی اختیار ہوگا کہ وہ جس کے پاس رہنا چاہے رہ سکتی ہے۔ (ردالمحتار ج ۲، ص ۶۹۶)

(۲) امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ عورتوں کے پاس بچہ کی پرورش کا حق بالغ ہونے تک رہتا ہے اور بالغ ہونے کے بعد ختم ہو جاتا ہے بچی کی پرورش کا حق اس کی شادی اور رخصتی تک عورتوں کے پاس ہی رہتا ہے۔ (دسوقی علی شرح الدردیر، ج ۲، ص ۶۳۲۔ ۵۳۳)

امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں بچہ یا بچی دونوں کی پرورش کا حق ماں کو حاصل رہے گا اور جب بچہ یا بچی سن تمیز کو پہنچ جائیں یعنی سات یا آٹھ سال کے ہو جائیں تو ان کو والد یا والدہ کے پاس رہنے میں اختیار دیا جائے گا وہ جس کو اختیار کر لیں گے تو اسی کو تربیت میں دے دئیے جائیں گے، اگر وہ کسی کو بھی اختیار نہ کریں تو وہ والدہ کی پرورش میں دے دئیے جائیں گے، کیونکہ ماں زیادہ شفیق اور مہربان ہے او ربچہ پہلے سے اس کی تربیت میں پرورش پاتا چلا آرہا ہے اور اگر بچہ دونوں کو اختیار کر لے تو پھر قرعہ اندازی کے ذریعے فیصلہ کیا جائے گا اور قرعہ اندازی میں جس کا نام نکل آئے بچہ کو اس کی تربیت میں دے دیا جائے گا اور بلوغت کے بعد وہ بااختیار ہے وہ دونوں میں سے جس کے پاس رہنا چاہے وہ رہ سکتا ہے تاہم بہتر یہ ہے کہ ساتھ ہی رہے تاکہ اسے احسان اور نیکی کرنے کا ثواب ملتا ہے۔ (مغنی المحتاج ج ۳، ص ۵۳۶۔ ۳۵۹)

امام احمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں لڑکا سات سال کی عمر تک ماں کی پرورش میں رہے گا اس کے بعد اگر والدین اتفاق رائے سے کسی ایک کے پاس بچہ کے رہنے پر رضا مند ہوں تو وہ اس کو اپنی پرورش میں رکھ سکتا ہے اور اگر دونوں میں سے ہر ایک اس کو اپنے پاس رکھنے پر مصر ہو تو بچہ کو اختیار دیا جائے گا وہ جس کو اختیار کر لے اس کے پاس رہے گا، اگر بچہ سوئِ اختیار کی وجہ سے اس کو اختیار کرنے لگے جہاں اس کی تعلیم و تربیت اور سیرت و اخلاق کا واضح نقصان نظر آتا ہو تو بچہ کو اختیار نہیں دیا جائے گا بلکہ اس کی مصلحت کو پیش نظر رکھتے ہوئے اس شخص کے حوالے کیا جائے گا جو اس کو بہتر پرورش کے ساتھ عمدہ تعلیم و تربیت کا انتظام کر سکے۔

او رلڑکی جب سات سال کی ہو جائے تو اس کو اختیار نہیں دیا جائے گا بلکہ وہ لازمی طور پر والد کے حوالے کی جائے گی اور شادی بلکہ رخصتی تک والد کے پاس رہے گی۔ (المغنی ج ۷، ص ۶۱۴، ۶۱۶)

مندرجہ بالا سطور میںآپ نے ملاحظہ کیا کہ امام ابو حنیفہؒ اور امام مالکؒ بچہ کو اختیار دینے کے قائل نہیں امام شافعیؒ اور امام احمدؒ اس کے قائل ہیں۔

امام شافعی اور امام احمد مندرجہ ذیل احادیث سے استدلال کرتے ہیں۔

(۱) حضرت ابوہریرہؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بچے کو والد یا والدہ میں سے جس کے پاس چاہے رہنے کا اختیار دیا۔ (زاد المعاد ج ۴، ص ۱۴۹ بحوالہ ترمذی)

(۲) حضرت ابوہریرہؓ فرماتے ہیں کہ ایک عورت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آکر کہنے لگی یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرا شوہر مجھ سے میرا بیٹا چھیننا چاہتا ہے حالانکہ وہ (میرا بیٹا) مجھے ابو ابو عتبہ کے کنویں سے پانی پلاتا ہے اور مجھے فائدہ دیتا ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم دونوں قرعہ اندازی کر لو، شوہر نے کہا، میرے بیٹے کا میرے سے زیادہ کون حق رکھتا ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیٹے سے فرمایا یہ تیرا باپ ہے اور یہ تیری ماں ہے ، تم جس کا چاہو ہاتھ پکڑ لو، بیٹے نے ماں کاہاتھ پکڑ لیا اور وہ اسے اپنے ساتھ لے گئی۔

(زاد المعادج، ج ۴، ص ۱۴۹ بحوالہ ترمذی)

(۳) عبدالحمید بن جعفر انصاریؒ فرماتے ہیں کہ ان کے دادا اسلام لے آئے مگر دادی نے اسلام قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ ان کے دادا اپنے چھوٹے بیٹے کو لے کر جو ابھی بالغ نہیں ہوا تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہوئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے باپ کو ایک طرف بٹھا دیا اور ماں کو دوسری طرف بٹھا دیا پھر بچے سے مخاطب ہو کر فرمانے لگے، تم اختیار کرو اور ساتھ دُعا فرمائی۔ اللھم اھدہ۔ اے اللہ! اس بچے کی راہنمائی فرما وہ بچہ باپ کے پاس چلا گیا۔ (زادالمعادج، ج ۴، ص ۱۴۹، بحوالہ نسائی)

مندرجہ بالا احادیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا بچہ کو اختیار دینا منقول ہے۔ لیکن تفصیلی روایات میں یہ مذکور ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بچہ کو اختیار دینے سے قبل والدین کو لڑائی جھگڑا ختم کرنے کی ترغیب دی اور جانبین کی رضا مندی سے بچہ کو اختیار دیا، اگر اختلاف کو اس مصالحت کے طریقہ سے رفع کرنا ممکن ہو تو یہ سب سے بہتر طرزِ عمل ہوگا۔

چنانچہ امام طحاوی رحمہ اللہ مشکل الآثار میں ذکر کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اختیار دینے سے قبل اس کے والدین کو اس بات پر رضا مند کیا کہ وہ بچہ کو خود فیصلہ کرنے کا اختیار دے دیں۔ (مشکل الآثار ج ۴، ص ۱۸۰، بحوالہ اعلاء السنن ج ۱۱، ص ۲۷۱)

اور حدیث (۳) میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دعا فرمانے کی وجہ سے اللہ رب العزت نے بچہ میں اپنے لیے بہتر انتخاب کی ہدایت عطا فرما دی اور بچہ نے باپ کا ہاتھ پکڑ لیا۔ بہرحال بچہ یا بچی کو اختیار دینا کوئی ایسی بات نہیں جو شریعت کے ضابطہ کے طور پر منقول ہو اور جس کے خلاف کبھی نہ کیا جا سکتا ہو اگر یہ بات ضابطہ کے طور پر منقول ہوتی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کی بیٹی کو اختیار دئیے بغیر حضرت جعفر رضی اللہ عنہ کے حوالے نہ کرتے۔

خلاصہ کلام یہ ہے کہ بچی یا بچہ سمجھدار ہونے سے قبل ماں کی پرورش میں رہیں گے، اور سمجھدار ہونے کے بعد کس کے پاس رہیں گے؟ اس میں حضرت آئمہ کرام کے مختلف اقوال ہیں جن کی تفصیل سابقہ سطور میں آپ پڑھ چکے ہیں، جس سے یہ بات بخوبی واضح ہے کہ مندرجہ بالا مسئلہ ایک مجتہد فیہ مسئلہ ہے جس میں فقہائے متبوعین کی مختلف آراء موجود ہیں۔ ایسے اجتہادی مسائل میں کسی ایک جانب کو قطعی اور فیصلہ کن قرار دیتے ہوئے باقی آراء کو غلط قرار دینا مناسب نہیں۔

نزاع کو ختم کرنے کے لیے سب سے پہلے جانبین کو ترغیب دی جائے کہ وہ بچے کے بہتر مستقبل کو پیش نظر رکھتے ہوئے اگر اپنی آراء کو چھوڑ کر ایثار کا اظہار کریں تو یہ باہمی منازعت کو ختم کرنے کے لیے ایک عمل خیر ہوگا اور اگر دونوں اس بات پر رضا مند ہو جاتے ہیں کہ بچہ کو ہی اختیار دے دیا جائے کہ وہ کس کا ہاتھ تھامتا ہے تو یہ بھی کوئی غلط فیصلہ نہیں (دیکھئے اعلاء السنن ج ۱۱، ص ۲۷۱) لیکن اگر فریقین کسی صورت بھی اپنی آراء سے پیچھے نہ ہٹیں اور نہ ہی بچہ کو اختیار دینے پر رضا مند ہوں تو پھر بچوں کے بہتر مستقبل کی خاطر بیٹا سات سال کی عمر تک والدہ کی پرورش میں رہنے دیا جائے گا اور والدہ اپنے والدین کے گھر میں لے جا کر بھی بچے کی پرورش کر سکتی ہے اور سات سال کے بعد بیٹا سرپرست کی تربیت میں دے دیا جائے گا اور بیٹی بالغ ہونے تک والدہ کی پرورش میں رہے گی اور بلوغت کے بعد شادی وغیرہ کے انتظامات کے لیے سرپرستوں کی ذمہ داری میں دے دی جائے گی۔"